بھٹکل:یکم مئی (ایس او نیوز)جنگل میں چرنے گئے مویشی شدیدبیماری کی حالت میں ہلاک ہونے کا واقعہ تعلقہ کے کٹگارکوپہ گرام پنچایت حدود میں پیش آیاہے۔دیہی عوام نے جانوروں کی ہلاکت کے لئے جنگل میں قائم سور پالن مرکز ہی اہم سبب ہونے کا الزام لگایا ہے۔
دیہات کے عوام نے بیمار شدہ جانوروں کو بچانے کی لاکھ کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور کئی جانوروں کو یہی تکالیف کا سامنا ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔ جنگل کے پہاڑی علاقے کے دامن میں سور وں کا پرورش مرکز ہے۔ وہاں کا کچرا کھانے کی وجہ سے جانور وں کی ہلاکت ہونے کا شبہ جتایا گیا ہے۔ مویشی ڈاکٹر پردیپ نے اپنے عملے کے ساتھ جائےو قوع پہنچ کر مہلوک جانوروں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ اس دورن جانوروں کے پیٹ سے کلو بھر کر پلاسٹک تھیلیوں کا پتہ چلاہے۔ جانوروں کے پیٹ میں موجود غذا کو جانچ کے لئے سرسی کی لیباریٹری کو روانہ کیاگیا ہے، ایک دو دن میں رپورٹ ملنےکاامید ہے۔
دیہی عوام نے اپنی سخت برہمی اور ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ جانوروں کی ہلاکت کے لئے یہاں موجود سور پالن مرکز ہی اہم سبب ہے اور یہ آ ج کل کی بات نہیں ہے بلکہ بہت پہلے سے ہورہاہے۔ سوروں کو غذا مہیا کرنے کے لئے شہری علاقوں کا کچرا لاکر یہیں جمع کیا جاتاہے۔ جس میں زیادہ تر پلاسٹک شامل ہوتاہے۔ سوروں کے پالن مرکز میں کچرے کی نکاسی ڈھنگ سے نہیں ہورہی ہے، سب کچھ کھلےمیدان میں لا کر پھینکا جاتاہے۔ اسی کچرے کو جانور کھانے سے موت کا شکار ہونےکی بات کہی۔ سورپالن مرکز کو یہاں سے منتقل کرنےکا مطالبہ لےکر کئی مرتبہ درخواست دی گئی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
واقعہ کو لےکر مویشی ڈاکٹر پردیپ نے کہاکہ جانوروں کی ہلاکت کے لئے کوئی متعدی بیماری وجہ سبب نہیں ہے، غذا ہی زہر بننے کی وجہ سے جانوروں کی ہلاکت ہونے کا ظاہری طورپر پتہ چلتاہے۔ یہاں کے اکثر عوام سورپالن مرکز کو لے کر اعتراض جتارہے ہیں ۔عوام کے الزام کی تفتیش کے بعد ضروری اقدام کرنےکی بات کہی۔ اگر جانوروں کی ہلاکت کے لئے سورپالن مرکز ہی سبب بنتا ہے تو مرکز کی منظوری رد کئے جانےکا عندیہ دیا۔